ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کیس سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فہرست کو جعلی قرار دے دیا گیا ہے۔
Sindh Police کے ترجمان نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی فہرستیں بے بنیاد، جعلی اور من گھڑت ہیں جن کا سرکاری تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان سندھ پولیس کے مطابق بعض عناصر جھوٹی خبریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے اور تفتیشی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پولیس حکام نے واضح کیا کہ زیرِ گردش ناموں اور فہرستوں کی کسی سرکاری ادارے نے تصدیق نہیں کی۔
سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ جھوٹی خبریں پھیلانے، کردار کشی کرنے اور سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں جبکہ ایسے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں انمول پنکی کے رابطوں سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی 881 اہم شخصیات کے نام تحقیقات میں سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رابطہ فہرست میں نجی کمپنیوں کے مالکان، اعلیٰ کاروباری شخصیات، سیاست دان، بیوروکریٹس، پارٹی بوائز اور شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ تحقیقاتی اداروں نے مبینہ خریداروں کے نام، رابطہ نمبر اور پتے حاصل کرلیے ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ فہرستوں اور افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔